تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخ اس بات کی گواہ ہے خون کبھی خاموش نہیں رہتا! اس کی خاموشی کو کمزوری سمجھنے والے تاریخ کے سب سے بڑے نادان ہیں۔ خون کا اپنا حافظہ ہوتا ہے، اپنی زبان ہوتی ہے اور انتقام لینے کے اپنے انوکھے انداز ہوتے ہیں۔ کبھی یہ انتقام تلوار کی دھار پر لکھا جاتا ہے، کبھی انقلاب کے نعروں میں سنائی دیتا ہے، کبھی تاریخ کے صفحات پر ایک نئی صبح بن کر طلوع ہوتا ہے اور کبھی بیلٹ باکس میں پڑنے والا ایک معمولی سا ووٹ بن کر بڑے بڑے بڑے ایوانوں کے در و دیوار ہلا دیتا ہے۔
خون کا انتقام ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں لیا جاتا۔ اس کے سپاہی کبھی بندوق اٹھائے ہوئے نہیں آتے؛ کبھی وہ ایک ماں کی آہ ہوتے ہیں، کبھی یتیم کی خاموش نگاہ، کبھی اجڑے ہوئے گھر کی ویرانی، کبھی کسی بے گناہ بچے کا ادھورا خواب اور کبھی ایک ایسا شہری ہوتا ہے جو برسوں خاموش رہنے کے بعد اچانک فیصلہ کرلیتا ہے کہ اب ظلم کے محافظوں کو ووٹ نہیں دے گا۔
یہ انتقام عجیب ہے! یہ کبھی ظالم کے قدموں تلے سے اقتدار کی مسند کھینچ لیتا ہے، کبھی اس کے تخت کو الٹ دیتا ہے، کبھی اس کے شاہی محل کو عوامی عدالت میں تبدیل کردیتا ہے اور کبھی اقتدار کے تخت کو تختۂ دار بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جس حکومت نے اپنی طاقت کے نشے میں انسانی جانوں کو اعداد و شمار سمجھ لیا ہو، ایک دن وہی اعداد و شمار اس کے خلاف عوامی فیصلے کی صورت میں سامنے آجاتے ہیں۔
خون کا انتقام ہمیشہ فوری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اسے برسوں لگتے ہیں، کبھی نسلیں گزر جاتی ہیں، لیکن جب اس کا محاسبہ شروع ہوتا ہے تو وہ صرف ایک شخص یا ایک حکومت کا احتساب نہیں کرتا، بلکہ اس پورے نظام کو کٹہرے میں کھڑا کردیتا ہے جس نے ظلم کو پالیسی، قتل کو حکمت عملی اور جارحیت کو قومی مفاد کا نام دیا ہوتا ہے۔
خون کو طاقت، جبر اور اقتدار کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جاسکتا۔ خون کی حرمت کو پامال کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ مظلوم کا لہو صرف زمین میں جذب نہیں ہوتا، وہ تاریخ کے حافظے میں بھی محفوظ رہتا ہے۔
امریکی انتخابات اور خون کی مار
آج امریکہ میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جس جنگ کو امریکی اقتدار کے ایوانوں میں طاقت کا مظاہرہ سمجھا گیا، وہی جنگ اب خود امریکی سیاست کے لیے ایک بھاری سیاسی قیمت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ، اس کے انسانی و معاشی اثرات اور امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی بے اطمینانی نے ٹرمپ انتظامیہ کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں۔
یہ محض انتخابی شکست نہیں، بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بے گناہوں کا خون کبھی کبھی میزائلوں سے نہیں، ووٹوں سے بھی اپنا حساب مانگتا ہے۔
سرخ ریاستوں کا زمین دوز قلعہ
امریکہ کی سرخ ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خطرے کی ایک سنجیدہ گھنٹی ہے۔ کنساس سے ٹیکساس اور جنوبی کیرولائنا تک ریپبلکن امیدوار ایک کے بعد ایک شکست سے دوچار ہوئے۔ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے ریپبلکن جماعت کے روایتی ووٹروں کو ٹرمپ سے دور کردیا؟
اگر اس بات کو سمجھناہے تو دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج محض ریپبلکن جماعت کی انتخابی شکست نہیں، بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی حلقۂ اثر میں پیدا ہونے والی ایک سنگین کمزوری کی علامت ہیں۔ ڈیموکریٹس نے نہ صرف ان ریاستوں میں کامیابی حاصل کی جو روایتی طور پر انتخابی مقابلے کے لیے مشہور ہیں، بلکہ ان علاقوں میں بھی فتح حاصل کی ہے جو کئی دہائیوں سے ریپبلکن جماعت کے محفوظ سیاسی قلعے سمجھے جاتے تھے۔
اس واقعے کا سیاسی مفہوم بالکل واضح ہے: ٹرمپ کی کارکردگی سے ناراضی اب صرف ان کے روایتی مخالفین تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے امریکی معاشرے کے اس طبقے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس نے 2024ء کے صدارتی انتخابات میں انہیں دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچانے میں مدد دی تھی۔
اس شکست کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ خود ٹرمپ انتخابی مہم میں براہ راست شریک ہوئے، ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں تشہیر کی اور ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ ان انتخابات کو ان کی حکومت کی حمایت کا موقع سمجھیں۔
گویا ٹرمپ نے خود ان انتخابات کو اپنی حکومتی کارکردگی پر ایک طرح کے عوامی ریفرنڈم میں تبدیل کردیا تھا، لیکن نتیجہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ یہ انتخابات صدر کے حق میں اعتماد کے ووٹ کے بجائے ان کے خلاف ایک وسیع احتجاجی فیصلے میں تبدیل ہوگئے۔
کنساس: 94 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
ریپبلکن جماعت کی شاید سب سے علامتی شکست کنساس میں سامنے آئی۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024ء کے صدارتی انتخابات میں 16 فیصد سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔
ڈیموکریٹک امیدوار ایڈم ہیملٹن نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دے کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ وہ 1932ء کے بعد کنساس سے امریکی سینیٹ میں پہنچنے والے پہلے ڈیموکریٹک امیدوار بن گئے۔
دوسرے لفظوں میں، ڈیموکریٹس نے 94 سال بعد اس ریاست میں ریپبلکن جماعت سے سینیٹ کی نشست چھین لی۔ یہ ایک ایسا انتخابی ریکارڈ تھا جو ریپبلکن جماعت کے مشکل ترین سیاسی ادوار میں بھی برقرار رہا تھا۔
اس کامیابی کی اہمیت صرف سینیٹ کی ایک نشست کی تبدیلی تک محدود نہیں، بلکہ اصل اہمیت اس حقیقت میں ہے کہ صدر کی حمایت یافتہ امیدوار کو ایسی ریاست میں شکست ہوئی جہاں ڈیموکریٹس کی کامیابی کبھی تقریباً ناممکن سمجھی جاتی تھی۔
ٹیکساس: سینیٹ میں ریپبلکن جماعت کی 38 سالہ اجارہ داری کا خاتمہ
ٹیکساس میں انتخابی نتیجہ ایک معمول کی سیاسی شکست سے کہیں آگے بڑھ گیا۔
ڈیموکریٹک امیدوار جیمز تالاریکو نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دے کر 1988ء کے بعد ٹیکساس سے پہلے ڈیموکریٹک سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس طرح 38 سال بعد ڈیموکریٹس دوبارہ اس ریاست میں سینیٹ کی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس کامیابی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ ٹرمپ نے 2024ء کے انتخابات میں ٹیکساس تقریباً 14 فیصد ووٹوں کے فرق سے جیتا تھا۔
اس کے علاوہ ڈیموکریٹس نے گورنر کے انتخاب میں بھی ریپبلکن گورنر کو شکست دے دی۔ 1994ء کے بعد یہ ٹیکساس میں کسی ڈیموکریٹک امیدوار کی پہلی کامیابی تھی۔ یوں 32 سال بعد اس ریاست میں سیاسی فضا تبدیل ہوتی دکھائی دی۔
یہ نتائج اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹیکساس جیسی روایتی ریپبلکن ریاست میں بھی عوامی ناراضی سیاسی توازن تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جنوبی کیرولائنا: ٹرمپ کی 18 فیصد برتری والی ریاست میں شکست
جنوبی کیرولائنا بھی امریکی سیاسی ماحول میں تبدیلی کی ایک اہم مثال بن کر سامنے آئی۔
ڈیموکریٹک امیدوار اینی اینڈریوز نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کو شکست دے دی۔
ڈیموکریٹس 1998ء کے بعد سے اس ریاست میں سینیٹ کا انتخاب نہیں جیت سکے تھے۔ اس اعتبار سے یہ کامیابی 28 سالہ انتخابی محرومی کے خاتمے کی علامت ہے۔
اس شکست کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ٹرمپ نے 2024ء میں جنوبی کیرولائنا تقریباً 18 فیصد ووٹوں کی برتری سے جیتی تھی۔
گویا ان کے حمایت یافتہ امیدوار کو ایسی ریاست میں شکست ہوئی جو نہ صرف ریپبلکن جماعت کا روایتی قلعہ ہے بلکہ حالیہ صدارتی انتخابات میں بھی ٹرمپ کی بھرپور حمایت کرچکی تھی۔
آئیووا اور اوہائیو: برسوں بعد ڈیموکریٹس کی واپسی
آئیووا میں جوش ٹرک نے ایشلے ہنسن کو شکست دے کر 2008ء کے بعد پہلی مرتبہ کسی ڈیموکریٹ کو امریکی سینیٹ میں پہنچایا۔ اس طرح 18 سال بعد ڈیموکریٹس کو اس ریاست میں کامیابی حاصل ہوئی۔
2015ء میں ٹام ہارکن کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے ریپبلکن دونوں سینیٹ نشستوں پر قابض تھے۔
اوہائیو میں بھی شیروڈ براؤن نے جان ہیسٹڈ کو شکست دے کر دوبارہ سینیٹ میں واپسی کی۔ یہ کامیابی 2024ء کے انتخابات میں ریپبلکن جماعت کے ہاتھوں اپنی نشست کھونے کے محض دو سال بعد حاصل ہوئی۔
ڈیموکریٹس نے ایمی ایکٹن کی کامیابی کے ذریعے گورنر کا عہدہ بھی 16 سال بعد ریپبلکن جماعت سے چھین لیا۔
مشی گن سے نیویارک تک: مسلم اور فلسطینی نمائندگی کی نئی تاریخ
امریکی انتخابات کے ان نتائج میں ایک اور اہم اور تاریخی پہلو بھی قابلِ توجہ ہے، جسے محض انتخابی کامیابی نہیں بلکہ امریکی سیاسی منظرنامے میں ایک نئی سماجی و فکری تبدیلی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مشی گن میں السید (El-Sayed) کی کامیابی کے بعد نیویارک سے فلسطینی نژاد امریکی خاتون عبیر قواس (Abeer Qawas) نے بھی اسٹیٹ سینیٹ کے ڈسٹرکٹ 12 سے تقریباً 74 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی اپنے نام کی۔ اس طرح وہ نیویارک اسٹیٹ سینیٹ میں منتخب ہونے والی پہلی فلسطینی نژاد امریکی بن گئیں۔
یہ کامیابی اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ پہلی مرتبہ ایک مسلم نمائندے کی کامیابی کے ساتھ ایک فلسطینی نژاد امریکی خاتون بھی نیویارک جیسے اہم سیاسی مرکز میں سینیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
یہ محض دو امیدواروں کی انتخابی فتح نہیں، بلکہ امریکی معاشرے میں ان آوازوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی موجودگی کا اظہار بھی ہے جو فلسطین، انسانی حقوق، نسلی مساوات اور جنگ مخالف مؤقف کو امریکی سیاسی مباحثے کا حصہ بنانا چاہتی ہیں۔
اس کامیابی کا ایک علامتی پہلو بھی ہے۔ طویل عرصے تک امریکی سیاست میں فلسطین کا مسئلہ زیادہ تر اسرائیل نواز لابیوں کے اثر و رسوخ کے زیر سایہ رہا ہے، لیکن اب فلسطینی نژاد امریکی شہری خود منتخب ہوکر ان ایوانوں تک پہنچ رہے ہیں جہاں خارجہ پالیسی، انسانی حقوق اور قومی ترجیحات پر بحث ہوتی ہے۔
یقیناً کسی فرد کی فلسطینی یا مسلم شناخت بذاتِ خود اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہر معاملے میں ایک مخصوص سیاسی مؤقف اختیار کرے گا، لیکن جمہوری عمل میں مختلف شناختوں اور محروم سمجھی جانے والی آوازوں کی نمائندگی کا بڑھنا اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہے۔
یہ کامیابیاں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ امریکی معاشرے میں فلسطین کا مسئلہ اب صرف بیرونی سیاست یا مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا موضوع نہیں رہا، بلکہ امریکی شہری سیاست، انتخابی ترجیحات اور عوامی شعور کا حصہ بھی بنتا جارہا ہے۔
شاید یہی وہ تبدیلی ہے جو مستقبل میں صہیونی لابیوں کی غیر معمولی سیاسی اجارہ داری کو چیلنج کرنے اور امریکی سیاست میں انصاف پسندانہ آوازوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں ریپبلکن جماعت کی طرف جھکاؤ رکھنے والی ریاستوں میں بھی ٹرمپ حکومت کے خلاف عوامی بے اطمینانی سیاسی توازن تبدیل کرسکتی ہے۔
احتجاجی لہر کے اسباب
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس احتجاجی لہر نے جنم کیسے لیا؟
اس کا جواب کئی عوامل کے مجموعے میں پوشیدہ ہے۔ زندگی کے اخراجات میں اضافہ، معاشی حالات کے بارے میں تشویش، حکومتی کارکردگی سے ناراضی، بدعنوانی کے الزامات اور وائٹ ہاؤس میں اختیارات کے ارتکاز کے خلاف تحفظات، ان تمام عوامل نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا ہے۔
تاہم انتخابی رپورٹس اور رائے عامہ کے جائزوں میں ایک اور اہم عامل بھی نمایاں ہوا ہے، اور وہ ہے ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، بالخصوص ایران کے ساتھ امریکہ کی فوجی محاذ آرائی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی انتخابی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی جنگ سے پیدا ہونے والی ناراضی، معاشی خدشات کے ساتھ مل کر قدامت پسند ریاستوں میں ووٹروں کے سیاسی رجحان کی تبدیلی کے اہم اسباب میں شامل رہی۔
امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سی بی ایس کے ایگزٹ پول کے مطابق بھی بیشتر ووٹروں کا خیال تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا امریکی فیصلہ غلط تھا۔ حتیٰ کہ ریپبلکن ووٹروں میں سے بھی تقریباً ایک چوتھائی نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔
یہ نکتہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ایران کے خلاف امریکی پالیسی کی مخالفت اب صرف ڈیموکریٹک جماعت کے روایتی ووٹروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ریپبلکن ووٹروں کا ایک حصہ بھی اس جنگ کے خلاف کھڑا ہوگیا ہے۔
یقیناً ریپبلکن جماعت کی انتخابی شکست کو صرف ایران کے مسئلے سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی کے اخراجات اور معاشی بے اطمینانی اب بھی ووٹروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے اہم ترین عوامل ہیں۔
لیکن جب ایک مہنگی خارجہ جنگ امریکی خاندانوں پر معاشی دباؤ کے ساتھ مل جاتی ہے تو اس کے سیاسی اثرات صرف خارجہ پالیسی کے دائرے تک محدود نہیں رہتے۔
امریکی ووٹر جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور روزمرہ زندگی کے اخراجات کا بوجھ محسوس کرتا ہے تو وہ اسے ایران کے خلاف جنگ کے حکومتی فیصلوں سے بھی جوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور بالآخر انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے اس فیصلے پر احتجاج کرتا ہے۔
انتخابی شکست یا ٹرمپ کی سیاسی طاقت کا زوال؟
ان انتخابات کے نتائج نے واشنگٹن کو ایک واضح پیغام دیا ہے: ٹرمپ اب ریپبلکن جماعت کے روایتی ووٹروں کی غیر مشروط وفاداری پر بھروسا کرکے اپنے داخلی اور خارجی فیصلوں کی سیاسی قیمت سے بچ نہیں سکتے۔
ایسی سینیٹ نشستوں کا ہاتھ سے نکل جانا جنہیں واپس حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو 18، 28، 38 اور حتیٰ کہ 94 سال انتظار کرنا پڑا، ظاہر کرتا ہے کہ یہ شکست محض کانگریس میں نشستوں کی معمول کی تبدیلی نہیں ہے۔
یہ ٹرمپ کے سیاسی اثر و رسوخ، ان کی حکومتی حکمت عملی اور ان کے طرزِ سیاست کے خلاف ایک سنجیدہ عوامی ردعمل کی علامت ہے۔
اور اس تمام صورت حال میں سب سے اہم پہلو ایران کے خلاف جنگ کا ہے۔ جب امریکی سیاسی قیادت کے اعلیٰ ترین حلقوں، نائب صدر سے لے کر خود صدر تک، اس جنگ کے انتخابی اثرات اور عوامی ناراضی کو تسلیم کرنے لگیں تو یہ محض ایک انتخابی تجزیہ نہیں رہتا، بلکہ امریکی اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والی ایک ایسی آواز بن جاتا ہے جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ ٹرمپ کو کتنی نشستوں کا نقصان ہوا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا امریکی عوام نے پہلی مرتبہ اس جنگ کی قیمت اپنے سیاسی حکمرانوں سے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟
خون کا حساب اور سنن الہی کا قانون
اس پورے منظرنامے وسیع تر تناظر اور سنن الہی کے دائرہ انتقام میں دیکھیں تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ بے گناہوں کا خون صرف میدانِ جنگ میں بہہ کر ختم نہیں ہوجاتا۔ اس کے اثرات سرحدوں سے نکل کر معاشروں، معیشتوں، سیاست اور بالآخر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
جس جنگ کو واشنگٹن نے اپنی طاقت کا اظہار سمجھا، وہی جنگ اب اس کے داخلی سیاسی استحکام کے لیے ایک سوال بن کر کھڑی ہے۔ جس ایران کو دبانے کے لیے عسکری قوت استعمال کی گئی، اسی ایران کے خلاف جنگ اب امریکی حکمرانوں کے لیے انتخابی بوجھ بن رہی ہے۔
یہ خون کے انتقام کی ایک مختلف صورت ہے: جب مظلوموں کی آہیں، جنگ کے انسانی نقصانات اور عوامی ضمیر کا احتجاج مل کر جابر پالیسیوں کے محافظوں سے سیاسی حساب مانگنے لگتے ہیں۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اقتدار کی مسندیں ہمیشہ مضبوط نہیں رہتیں۔ کبھی ایک ووٹ، ایک احتجاج، ایک عوامی فیصلہ اور ایک بیدار ضمیر ان بنیادوں کو ہلا دیتا ہے جنہیں حکمران اپنی طاقت کے بل پر ناقابلِ شکست سمجھتے رہے ہوتے ہیں۔
خون کا انتقام شاید ہمیشہ اپنے ساتھ تلوار لے کر نہیں آتا؛ کبھی وہ خاموشی سے ووٹ کی پرچی پر اپنا فیصلہ لکھتا ہے اور پھر پوری دنیا کو بتا دیتا ہے کہ مظلوم کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جاسکتا۔
کیونکہ خون جب بولتا ہے تو صرف قاتل کا نام نہیں لیتا، وہ ان تختوں کا حساب بھی مانگتا ہے جن پر بیٹھ کر قتل کے فیصلے کیے گئے تھے!










آپ کا تبصرہ